والوں کا لباس ہے ۔مزید فرماتے ہیں : حدیث پاک کے مطالعہ کے بعد یہ واضح ہوا کہ مذکورہ انداز میں آپ کا چادر نما پٹکا کا اوڑھنا نہ صرف آپ کی ادا تھی بلکہ حدیث ِپاک پر عمل بھی تھا ۔سبحان اللہ! کیسی پاکیزہ سیرت تھی، جو پہناوے کے ادنیٰ سے حصہ میں بھی سنّتِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کو ملحوظ رکھتے تھے۔ (تذکرۂ محدثِ اعظم پاکستان ، ۲/۳۴۱)
مفتیٔ اعظم ہند کا عمامہ
شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، تاجدارِ اہلسنّت ، حُضُور مفتیٔ اعظم ہند، حضرت علّامہ مولانا مصطَفٰے رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بڑے عرض کا زیادہ تر سفید ، بادامی عمامہ (شریف) باندھتے۔ (جہانِ مفتی ٔاعظم ، ص۱۰۱)
بَحرُالعُلُوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : مفتیٔ اعظم ہند رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سر پر قیمتی بھاگل پوری عمامہ باندھتے تھے۔ مزید فرماتے ہیں کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ عمامہ باندھنے کے لیے کوئی خاص اہتمام نہیں فرماتے تھے بلکہ سادہ عمامہ باندھتے تھے مگر دیکھنے میں آپ کے سر مبارک پر عمامہ اتنا خوبصورت معلوم ہوتا کہ دیکھنے والے کہتے کہ عمامہ کی وضع (بناوٹ) انھیں کے فَرقِ اقدس (سَر مبارک) کے لیے ہوئی ہے۔
(جہانِ مفتیٔ اعظم ، ص ۲۴۳ ملخصاً)