حضرت محدثِ اعظم پاکستان کا عمامہ
خلیفۂ شہزادگانِ اعلیٰ حضرت ، محدّثِ اعظم پاکستان حضرت ِعلّامہ مولانا محمد سردار احمد چشتی قادری عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی کے مبارک عمامہ کاذکر کرتے ہوئے حضرتِ علّامہ مولانا محمد جلال الدّین قادری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں : آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ تدریسِ حدیث ، اوقات ِنماز میں عموماً اور جمعہ کے دن بالالتزام پگڑی (یعنی عمامہ شریف ) باندھتے ، جو بعض اوقات سفید ، کبھی زرد اور عموماً نسواری ہوتی۔ عمامہ کی لمبائی بالعموم سات گز ہوتی ۔گھر پر اور مدرسہ و مسجد میں سردیوں میں عام طور پر یوپی کی کشیدہ کاری والی ٹوپی ہوتی۔ خاص تقاریب ، خطبۂ جمعہ وعیدین کے لئے عمامہ پر سفید ململ کا لمبا چادر نما پٹکا بھی اوڑھا کرتے جو چہرہ مبارک کے ماسوا سر اور گردن پر لپیٹا ہوتا۔
حضرت علامہ مولانا محمد جلال الدّین قادری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ میں آج تک آپ کے اس چادر نما کو سر اور گردن پر اوڑھنے کو آپ کی ایک خاص ادا سمجھتا رہا ان دنوں حسنِ اتفاق سے ایک حدیثِ پاک نظر نواز ہوئی ’’اَ لْاِرْتِدَائُ لُبْسَۃُ الْعَرَبِ وَالْاِلْتِفَاعُ لُبْسَۃُالْاِیْمَانِ‘‘ (رواہ طبرانی عن ابن عمربحوالہ جامع صغیر للسیوطی ، مطبوعہ مصر جلد ۱، ص۲۱۰) ترجمہ و تفھیم :چادر اوڑھنا عربوں کا لباس ہے اور سر اور اکثر چہرے کو (چادر سے )ڈھانکنا ایمان