نشَسْت و برخاست میں کبھی تبدیلی نہ ہوئی، خلوت و جلوت میں ہمیشہ دو زانو ہی بیٹھا کرتے۔ (الرحیق العرفان، ص۳۷۰ ملخصاً)
حضرت مُفَسِّرِ اعظم ہند کا عمامہ
شَہزادۂ حُجَّۃُ الِاسلَام ، مُفَسِّرِ اعظم ہند، حضرت علامہ مولانا ابراہیم رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سفید یا بادامی رنگ کا عمامہ شریف باندھا کرتے تھے۔ (مفتیٔ اعظم اور ان کے خلفاء ، ص ۱۲۰)
حضرت حافظِ ملّت کا عمامہ
اَلجَامِعَۃُ الاشرَفِیَہ کے بانی، حافظِ ملت حضرتِ علّامہ شاہ عبد العزیز محدّثِ مراد آبادی علَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الھَادِی کے عمامہ شریف کا ذکر کرتے ہوئے علّامہ بدر القادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں کہ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ عمامہ اکثر بادامی یا کتھیٔ ملا گیری(صندلی ) رنگ کا ، معمولی ، پانچ گزی بائیں جا نب پیچ خوب واضح (جبکہ) شملہ کمر سے اوپر تک (ہوتا)۔ (حیات حافظ ملت ، ص ۵۱ )
حضرت فقیہ زماں کا عمامہ
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، فَقِیہِ زَمَاں حضرت علامہ مفتی غلام جان ہزاروی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نماز ہمیشہ عمامہ (شریف) باندھ کر ادا فرماتے ، نماز کے علاوہ بھی سر پر عمامہ (شریف) سجائے رکھتے۔ گھر میں ٹوپی سر پر رکھتے۔ (حیاتِ فقیہ زماں ، ص ۹۲)