Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
346 - 479
 ۱۳۴۷ ھ) سادہ اور معمولی لباس پہنتے تھے، سر پر پگڑی وٹوپی، بدن پر معمولی کپڑے کاکُرتہ ، پاؤں میں معمولی جوتا،آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے معمولات میں سے تھا۔ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ موٹا کپڑا پہنا کرتے، زیادہ باریک کپڑے کو نا پسند فرماتے۔ اکثر دیسی کھڈی کا کپڑا بنوا لیا کرتے، زرد (یعنی پیلے) رنگ کی قصوری جوتی استعمال فرماتے۔ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سیاہ رنگ کے جوتے ناپسند فرما تے بلکہ اگر کسی کے پاؤں میں سیاہ بوٹ یا جوتی دیکھتے تو سخت ناراض ہوتے اور سیاہ کپڑا پہننا بھی ناپسند فرماتے اور پگڑی کے ساتھ ٹوپی ضرور پہنتے تھے اور فرماتے کہ حضور نبیٔ کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عَنہُم کو ٹوپی پر عمامہ باندھنے کا ارشاد فرمایا ہے۔ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہمیشہ سفید رنگ کا لباس زیب ِتن فرماتے۔ عمامہ شریف عموماً کپڑے کی ٹوپی پر اور کبھی کبھار ناڑ کی ٹوپی پر باندھتے۔ سفید کرتے کے ساتھ سفید تہبند ناف کے اوپر باندھتے جو ہمیشہ ٹخنوں سے اوپر ہوتا۔ کبھی کبھی نیم بادامی رنگ کی صَدری یا اچکن کی طرح کا لمبا کوٹ بھی کُرتے کے اوپر پہن لیا کرتے۔ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاؤں میں زرد (پیلے)رنگ کی جوتی ہوتی اور سردیوں میں عمومًا چمڑے کے موزے استعمال فرماتے۔ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ارشاد کے مطابق زرد رنگ کی جوتی پہننا مستحب ہے۔ آخری دم تک عمامہ شریف کی پابندی فرماتے رہے ،