Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
345 - 479
تھی، صاف ستھرا عمدہ لباس زیبِ تن فرماتے ، اعلٰی کپڑوں کی شیروانی یا جبہ بنواتے ، قیمتی کامدار (زرئی کا کام کیا ہوا) عمامہ باندھتے ، زمانۂ دراز تک حضرت صدر الشریعہ کو انتہائی قیمتی لباس میں دیکھا گیا مگر اخیر عمر مبارک میں یک بیک رنگ بدل گیا اور کھدر پسند آگیا اسی کی بنیان ،اسی کا کرتہ ،اسی کا چوڑی مہری کا پاجامہ ،اسی کی گول ٹوپی ، اسی کا عمامہ باندھتے ۔ (سیرتِ صدرالشریعہ ، ص۱۰۶) 
	حضرت علامہ مفتی محبوب رضا خاں بریلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کھدر ہی کا سفید یا ہرے رنگ کا جبہ زیبِ تن فرماتے اور رنگین عمامہ باندھتے تھے۔ 
(ماہنامہ اشرفیہ ، صدر الشریعہ نمبر ، ص ۲۶ ملتقطاً) 
حضرت مَلِکُ العلماء کا عمامہ 
	مُؤَلِّفِ صَحِیحُ البِہَارِی، خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، ملک العلماء ، حضرت علّامہ مولانا ظفرالدّین بہاری قادری رضوی  عَلیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی لمبی پگڑی (یعنی عمامہ شریف ) سر پر باندھتے تھے۔ (ملک العلماء ، ص ۶۱) بعض بزرگوں نے آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو ہلکے موتیا رنگ کا عمامہ شریف باندھے بھی دیکھا ہے۔ 
میاں شیر محمدشرقپوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کاعمامہ 
 	شیرِربّانی حضرت سیّدنا میاں شیر محمد شرقپوری عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الغَنِی (المتوفّٰی