’’ میری طرف سے تمام اہلِ سنّت مسلمانوں کو سلام پہنچادو اور میں نے کسی کا کوئی قصور کیا ہو تو میں بڑی عاجزی سے اس کی معافی مانگتا ہوں ، مجھے خدا کے لیے معاف کردو یا مجھ سے کوئی بدلہ لے لو، وغیرہ وغیرہ۔ اس وقت حاضرین چاروں طرف سے اس ضعیف کو گھیرے ہوئے تھے اور سب کے سب متأثر ہو رہے تھے، کوئی سسکیاں بھررہا تھا اور کوئی خاموش رو رہا تھا، میں ذرا سخت دل واقع ہوا ہوں ، اس لیے میں نے کوئی اثر قبول نہ کیا، لیکن میرے بھائی جو بڑے رقیق القلب تھے ان وداع کلمات سے خاصے متأثر ہوئے جس کا اظہار انہوں نے واپسی میں کیا یہی پیرِ ضعیف تھے حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی۔
(امام احمد رضااور رد بدعات و منکرات ، ص ۱۹۹)
شاہ ابوالحسین احمدنوری میاں کا عمامہ
خلیفۂ حضرت شاہ آلِ رسول،حضرت شاہ ابو الحسین المعروف نوری میاں رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سر پر رنگین عمامہ مبارک باندھا کرتے تھے ۔
(تذکرہ خانوادہ حضرت ایشاں ، ص ۳۵۱)
حضرت صدرالشریعہ کا عمامہ
شَارِحِ شَرح مَعَانِی الآثَار، صاحبِ بہارِ شریعت ، صدرالشریعہ ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے مزاج میں حددرجہ لطافت