لیے روانہ ہوئے، بگھی ابھی راستے ہی میں تھی کہ ٹرین نے سیٹی دی اور چل پڑی (یوں ٹرین چھوٹ گئی) جمعہ کا دن تھا، دریافت سے معلوم ہوا کہ اب بریلی میں کسی جگہ جمعہ نہیں مل سکتا، صرف ایک جگہ مل سکتا ہے جہاں خاصی تاخیر سے جمعہ ہوتا ہے۔ ہم لوگ اطمینان سے وضو کر کے روانہ ہوئے اور اس مسجد میں پہنچ کر دوسری صف میں بیٹھ گئے، مسجد بڑی جلدی پُر ہو گئی، ذرا دیر کے بعددیکھا کہ ساری مسجد کے لوگ کھڑے ہوگئے اور فضا درود کی آواز سے گونج گئی، دیکھا کہ ایک کرسی پر ایک بزرگ جلوہ افروز ہیں اورچند آدمی کرسی کو اٹھائے چلے آ رہے ہیں۔ اگلی صف میں وہ ضعیف اور بیمار آدمی آ کر بیٹھ گیا۔ اذان ہوئی خطبہ ہوا اور نماز کے لیے وہ بیمار کھڑا ہو ا تو اپنے ہاتھوں سے مضبوطی کے ساتھ اپنا عصا پکڑے ہوئے تھا، سجدہ ہوتا تو عصا زمین پر رکھ دیتا اورقیام کے وقت پھر عصا سنبھال لیتا۔ نماز ہوئی، سنتیں ہوئیں ، تودیکھا کہ ایک بڑا گاؤ تکیہ اُسی مسجد میں لاکر رکھ دیا گیا، جس سے ٹیک لگا کر وہ بیمار نیم دراز ہو گیا، میانہ قد، سر پر ہلکا بادامی عمامہ غالباً ٹسرکا… جسم پر عبا ، داڑھی لمبی گھنی اور سفید … رنگ گندمی… جسم دورا مگر اُس وقت دُبلا … آواز رعب دار لیکن اس وقت رِقت انگیز، اس کے بعد بیعت کا سلسلہ شروع ہوا اوربیعت کے بعد اُس ضعیف مریض نے اپنی نحیف مگر درد اثر بھری آواز میں چند وداعی کلمات کچھ اس طرح کہے: