کا عمامہ شریف اور دوسرے ہاتھ میں نیلگوں رومال تھا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے میرے سر پر صندلی عمامہ شریف سجا دیا۔
(تاریخ مشائخ قادریہ، ۲/۳۱۳ بتصرف)
حضرت مجدّد الف ثانی کا عمامہ
حضرت سیّدنا امامِ ربانی ، مجددِ الفِ ثانی ، شیخ احمد سرہندی نقشبندی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے متعلق منقول ہے کہ ایک بڑا عمامہ (شریف آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ) سرِ مبارک پر ہوتا ۔ مسواک دستار کی کور میں ، شملہ دونوں کندھوں کے بیچ تک (ہوتا)۔ (جہانِ امام ربانی ، ۱/۴۴۱)
اعلٰی حضرت کا بادامی عمامہ
سیّدنا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت شاہ احمد رضاخان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن آخری عمر مبارک میں بھی نمازِ باجماعت کا کس قدر اِہتمام فرمایا کرتے تھے نیز خوفِ خدا کے کیسے پیکر تھے اس بات کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے چنانچہ
علامہ یٰسین اختر مصباحی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ فرماتے ہیں : سید جعفر شاہ پھلواروی اور ان کے بھائی شاہ غلام حسنین صاحب اجمیر شریف سے واپسی پر بریلی رکے، پھر یہاں سے لکھنؤ جانے کا ارادہ کیا، آگے کی روداد انہی سے سنتے ہیں …!
ہم دونوں یہاں سے لکھنؤ پہنچنے کے ارادے سے ریلوے اسٹیشن کے