Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
341 - 479
حضرت شیخ احمد بدوی کا عمامہ 
	حضرت سیّدنا شیخ احمد بدوی عَلَیہَ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی کو سنّتِ عمامہ سے اس قدر محبت تھی کہ اسے سر سے جدا نہ فرماتے حتی کہ نہاتے وقت بھی ۔چنانچہ علامہ عبدالوہاب شعرانی عَلَیہَ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا شیخ احمد بدوی عَلَیہَ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی جب کوئی کپڑا یا عمامہ پہنتے تو اسے غسل وغیرہ کے وقت بھی نہ اُتارتے تھے ۔حتّٰی کہ جب وہ کمزور ہو جاتا تو اسے بدل دیا جاتا اور وہ عمامہ جسے خلیفہ ہر سال میلاد کے وقت پہنتا ہے وہ حضرت شیخ کا اپنا عمامہ ہے ۔ 
 (الطبقات الکبری ،الجزء الاول، ص۲۵۶) 
خواب میں صندلی عمامہ سجا دیا
	حضرت سیّدنا شاہ محمد کامل ولید پوری (مُتَوَفّٰی ۱۹۰۴) عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی  قُدوَۃُ العُرَفَائ، حضرت شاہ عبدالعلیم لوہاروی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے مرید و خلیفہ اور حضرت علامہ عبدالحلیم فرنگی محلی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی  کے نامور شاگردوں میں سے ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے ایک خواب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک مسجد میں ہوں میرے پیرو مرشد حضرت شاہ عبدالعلیم لوہاروی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بہشتِ بریں سے مسجد میں تشریف لائے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دائیں ہاتھ مبارک میں صندلی رنگ