Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
340 - 479
 رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ارشاد فرماتے ہیں : ’’وَھُوَ لِلنُّدُب‘‘ یعنی حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کا یہ فرمانا استحباب کے لیے ہے۔ (بحرالرائق، کتاب الصلاۃ، باب الاذان ، ۱/۴۴۶)  اسی طرح صَدْرُالشَّرِیعہ بَدْرُالطَّرِیْقَہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی  عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : صبح کی اذان میں فلاح کے بعد اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم کہنا مستحب ہے۔
 (بہارِ شریعت، ۱/۴۷۰)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! احادیثِ کریمہ اور فرامینِ فُقَہاء سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ کسی مستحب کام پر مُوَاظَبَت یعنی ہمیشگی اختیار کرلینا نہ صرف جائز ہے بلکہ ایک اچھا عمل ہے جس پر خیرِ کثیر کی امیدِسعید ہے اس بات کو ناجائز کہنا بہت بڑی جرأت ہے اور پھر جب ان مذکورہ بالا امور سے مستحب کاموں کے دوام کاثبوت حاصل ہوگیا توپھر سبز رنگ کا عمامہ شریف جوکہ درجۂ استحباب میں ہے اس پر ہمیشگی اختیار کرنے کا جواز بھی ازخود ثابت ہو گیا۔ 
اولیائے کرام کے مختلف رنگوں کے عمامے 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام بھی مختلف رنگوں کے عمامے باندھا کرتے تھے یہاں ایسے ہی چند اولیائے کرام کے عماموں کا ذکر کیا گیا ہے