Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
339 - 479
 	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مردے کو سفید رنگ کے علاوہ کسی اور رنگ کے کپڑے کا کفن دینا بھی جائز ہے مگر سفید رنگ کا کفن دینا مستحب ہے جیسا کہ حدیثِ مبارکہ سے اس بات کا پتہ چلا چنانچہ فقۂ حنفی کے ایک بلند پایہ امام علامہ ابنِ عابدین شامی علَیْہ رَحْمَۃُ اللہ الْکَافِی مختلف نوعیّت کے کفنوں کو بیان کرتے ہوئے سفید رنگ کے کفن کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’وَیُسْتَحَبُّ الْبَیَاضُ‘‘ یعنی سفید کفن مستحب ہے۔ (درمختار و ردالمحتار ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃالجنازۃ ، مطلب فی الکفن، ۳/۱۱۸) فی زمانہ سفید رنگ کا کفن دینے پر لوگوں کا عمل جاری ہے اور اس کے علاوہ کسی اور رنگ کا استعمال نظر نہیں آتامگر کوئی بھی اس مستحب کام کو اس کے دوام کے سبب ناجائز نہیں کہتا۔ اسی طرح نمازِ فجر کی اذان میں ’’اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم‘‘ کہنا بھی مستحب ہے، جیسا کہ روایت میں ہے کہ جب حضرت سیِّدنا بلال حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فجر کی اذان کے دوران دو مرتبہ ’’اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم‘‘ کہا تو اس پرنبیٔ کریم رؤوفٌ رحیم عَلَیہ اَفْضَلُ الصَّلوٰۃِوالتَّسلِیم نے ارشاد فرمایا: اے بلال یہ کلمہ بڑا ہی خوب ہے ، ’’اِجْعَلْہُ فِیْ اَذَانِکَ‘‘ تو ان الفاظ کو اپنی (صبح کی) اذان کا حصہ بنالو۔  (کنز العمال، کتاب الصلوۃ،التثویب،الجز: ۸، ۴/۱۶۷، حدیث: ۲۳۲۴۲)  ان کلمات کے اِسْتِحْباب کو بیان کرتے ہوئے فقہ حنفی کے ایک دوسرے امام، زین الدین بن ابراہیم بن نُجَیم