معلوم ہوا مستحب کام پر پابندی کے ساتھ عمل کرنا صحابیٔ رسول کا طریقہ ہے۔
اسی ضمن میں ایک اور روایت ملاحظہ فرمائیے، حضرت سیِّدنا عبداللہ ابنِ عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ حضورِاکرم نورِ مجسّم صَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:تم سفید کپڑے پہنا کرو، کیونکہ وہ تمہارے کپڑوں میں بہترین کپڑے ہیں اور اسی کپڑے میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔
(ابوداؤد، کتاب اللباس ، باب فی البیاض، ۴/۷۲، حدیث:۴۰۶۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد بن علی ابنِ حجر عسقلانی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ الْکَافِی(متوفیّٰ۸۵۲ھ) اس حدیث کے تحت ارشاد فرماتے ہیں : اس حدیث سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ اپنے اجتہاد سے کسی عبادت کے لئے وقت مقرَّر کرنا جائز ہے کیونکہ حضرت سیِّدنا بلال حبشیرَضِیَ اللہُ تَعَالی عَنْہ نے یہ مقام و مرتبہ اپنے اجتہاد سے ہی حاصل کیا اور نبیٔ اکرم، رسولِ محتشم صَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس نیک عمل کے درست ہونے کو بیان بھی فرمایا۔ (فتح الباری، کتاب التھجد، باب فضل الطھورالخ، ۴/۳۰)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہواکہ عاشقانِ رسول جو اپنے پیارے پیارے آقا مدینے والے مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے میلاد شریف کے لئے بارہ ربیع الاوّل کی تاریخ مقرر کرتے ہیں نیز حضورِ غوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالی عَنْہکی فاتحہ کے لیے گیارہ تاریخ، اسی طرح وفات پانے والے بزرگانِ دین و عزیزوں اقارب کے ایصالِ ثواب کے لیے اَعراس و سوئم، دسویں اور چالیسویں کی تاریخوں کو اپنی آسانی کے لحاظ سے معین کرتے ہیں الغرض ان جیسے ہزارہا نیک امور جن کو خود سے ہی اپنے مقرر کردہ اوقات پر بجالاتے ہیں بلا شبہ یہ تمام کام نہ صرف جائز بلکہ رضائے الٰہی کا باعث بھی ہیں۔