Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
337 - 479
جانے والی نماز)جو ایک مستحب کام ہے، اس پر ہمیشگی اختیار کرنے پر ملنے والی فضیلت کو حضرت سیِّدناامام بخاری عَلیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی روایت فرماتے ہیں :  حضرت سیِّدنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبیٔ اکرم،شَفیعِ مُعَظَّم صَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک دن صبح کی نماز کے وقت حضرت سیِّدنا بلال حبشیرَضِیَ اللہُ تَعَالی عَنْہ سے فرمایا: اے بلال یہ بتاؤ کہ تم نے اسلام میں داخل ہونے کے بعد جو عمل کیے ہیں ان میں سے کس عمل پر اجر کی زیادہ توقع ہے؟ کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے چلنے کی آہٹ سنی ہے۔ حضرت سیِّدنا بلال حبشیرَضِیَ اللہُ تَعَالی عَنْہ نے عرض کی: میں نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا جس پر مجھے زیادہ اجر کی توقع ہو، ہاں اتنا ضرور ہے کہ دن یا رات میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے اتنی نماز پڑھتاہوں جو میرے لئے مقدر کی گئی ہے۔(1)
 (بخاری، کتاب التھجد، باب فضل الطھورالخ، ۱/۳۹۰، حدیث:۱۱۴۹)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1… میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حدیثِ مبارکہ سے ایک یہ مدَنی پھول بھی ہمیں حاصل ہوا کہ جس نیک کام کا سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نہ حکم ارشاد فرمایا ہونا ہی آپعَلَیْہِ السَّلام نے اس پر عمل کرکے دکھایا ہو، ایسے نیک کام کو از خود اِختیار کر لینا صحابۂ کرام کا مبارک طریقہ ہے جس پر اس کے علاوہ اور احادیثِ کریمہ بھی شاہد ہیں پھر جب حضور عَلَیْہِ السَّلام کواس نیک کام کا پتہ چلا تو آپعَلَیْہِ السَّلام نے اس پر انکار نہیں فرمایا بلکہ اس عمل کی تعریف کرتے ہوئے اس کے اجر کو بیان فرمایا۔ شارحِ بخاری، حافظ شہاب الدین