Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
336 - 479
 شعبان بن حسین کے دور میں شروع کیا گیا ، بعض علما ء نے اسے بدعتِ مباحہ فرمایا ہے کہ سیّد و غیرِ سیّد کو اس سے منع نہ کیا جائے گا۔ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ مزید فرماتے ہیں :’’ میں تو کہتا ہوں کہ ساداتِ کرام کو سبز عمامہ باندھنا چاہئے تاکہ سیّد اور غیر ِسیّد میں امتیاز رہے کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہر سیّد کا نسب معروف و مشہور ہو ایسے میں خوف ہے کہ کہیں لوگ ان کی عزّت و تکریم میں کمی نہ کرنے لگیں۔‘‘ 
(السفینۃ القادریۃ، ص۳۷ ملتقطًا) 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! علماء و محدثینِ کرام رَحِمہُمُ اللہُ السَّلام کی وضاحت سے پتہ چلتا ہے کہ سبز سبز عمامہ شریف سجانا بالکل جائز و مستحسن ہے اور یہ اسلافِ کرام رَحِمہُمُ اللہُ السَّلام کا طریقہ رہا ہے لہٰذا ہمیں شیطان کے تمام ہتھکنڈوں کو ناکام بنا کر اپنے سر پر عمامے شریف کا تاج سجا لینا چاہئے ۔ 
وسوسہ: سبز عمامہ پہننا اگرچہ جائز و مستحب ہے، مگرکیا ایک مستحب کام پر ہمیشگی اختیار کرلینا درست ہے؟ 
	جوابِ وسوسہ: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی مستحب کام پرہمیشگی اِختیار کرنایعنی اس نیک کام کو مستقل طور پر اپنے معمولات میں شامل کرلینا نا صرف جائز بلکہ افضل اور اعلیٰ کام ہے اور اجرِعظیم کے حصول کا باعث ہے چنانچہ مؤذِّنِ رسول حضرت سیِّدنا بلال حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو تَحِیَّۃُ الْوضُو (یعنی ہر وضو کے بعد پڑھی