Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
335 - 479
 کا بھی یہی رنگ ہو گا۔ (الشرف المؤبد ، ص ۴۴) 
علامہ نبہانی کی اہم وضاحت
	حضرت علامہ نبہانی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی حضرت سیّدنا امام جلال الدین سیوطی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی  کی مذکورہ بالا عبارت نقل فرمانے کے بعد لکھتے ہیں کہ جس علاقے میں سبز عمامہ صرف ساداتِ کرام ہی پہنتے ہوں وہاں کسی غیرِ سیّد کو سبز عمامہ نہیں پہننا چاہئے کیونکہ اِس طرح اُس کے بھی سیّد ہونے کا گمان ہو گا لیکن اگر کسی علاقے میں سبز عمامہ سیّدوں کا شِعَار نہیں ہے تو پھر غیرِ سیّد کے پہننے میں بھی کوئی حرج نہیں جیسا کہ قُسطُنطُنیَہ وغیرہ شہروں میں سبز علامت سیّد ہونے پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ وہاں عمامے استعمال کرنے والے لوگ اور علماء و طلباء کی بڑی تعداد بعض اوقات سبز عمامہ باندھتی ہے اور سردیوں میں خاص طور پر بکثرت استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس میں میل ظاہر نہیں ہوتا بلکہ کاروباری اور تجارت کرنے والے لوگ بھی اسی سبب سے سبز عمامے بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ 
(الشرف المؤبد، ص۴۵) 
سبز عمامہ خاص کر لینا بدعتِ مباحہ (جائز) ہے
	سیّدُ العُلَماء علامہ محمد بن احمد المعروف منلا قادری عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نے بھی یہی لکھا ہے کہ ساداتِ کرام کے لئے سبز عمامہ شریف بادشاہ اشرف