حضرت علامہ شہاب الدین احمد بن حجر مکی شافعی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی ساداتِ کرام کے لئے مقرر کردہ اسی سبز علامت کے بارے میں فرماتے ہیں : فَاِذَا کَانَت حَادِثَۃٌ فَلَا یُؤمَرُ بِہَا الشَّرِیفُ وَلَا یُنْہٰی عَنہَا غَیرُہ یعنی جب (یہ علامت ) ایک نئی چیز ٹھہری تو نہ تو کسی سیّد کو اس کا حکم دیا جائے گا اور نہ ہی غیرِ سیّد کو اس سے منع کیا جائے گا۔
(فتاوی حدیثیۃ، مطلب فی ان العلامۃ الخضراء للاشراف الخ، ص ۲۲۵)
سبز رنگ تمام رنگوں سے افضل
فَنَا فِی الرَّسُول ، حضرت علامہ یوسف بن اسماعیل نَبہَانی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی فرماتے ہیں : اولاً بادشاہ شعبان بن حسین نے ۷۷۳ ھ میں ساداتِ کرام کی عزّت و تکریم کے لیے یہ اہتمام کیا کہ صرف ان کے عماموں پر سبز رنگ کے کپڑے کا ایک ٹکڑا علامت کے طور پر لگایا جانے لگا تاکہ سیّد اور غیر سیّد میں امتیاز ہو جائے ثُمَّ تُوسَعُ فِیہَا حَتّٰی جُعِلَتِ العِمَامَۃُ کُلُّہَا خَضرَائَ یعنی پھر اس علامت میں توسیع کی گئی حتی کہ پورے عمامے کو سبز کر دیا گیا۔ آپ رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ مزید فرماتے ہیں کہ سبز رنگ ہی کو اختیار کرنے کا سبب ممکن ہے یہ ہو کہ یہ تمام رنگوں سے افضل ہے یا اس لیے کہ قیامت کے دن ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کو اسی رنگ کا حُلَّہ پہنایاجائے گا یا اس لیے کہ جنتیوں کے لباس