اور اگر کوئی سیّد یا غیرِ سیّد اسے نہ پہننا چاہے تو اسے اس علامت کے پہننے کا حکم بھی نہیں دیا جائے گا۔ (الحاوی للفتاوی ، ص ۲۹۷ مخطوط مصور)
یہ اچھا طریقہ ہے
حضرت سیّدنا امام جلال الدین سیوطی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی مزید فرماتے ہیں : (اس سبز علامت کے بارے میں ) زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسے اَشراف (یعنی ساداتِ کرام ) اور غیر سادات میں فرق کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے، اس سلسلے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان سے تائید حاصل کی جاسکتی ہے:
یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوٰجِکَ وَ بَنَاتِکَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلٰبِیْبِہِنَّطذٰلِکَ اَدْنٓی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَط
ترجمۂ کنزالایمان: اے نبی اپنی بیبیوں اور صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منھ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں۔ (پ ۲۲، الاحزاب ، الآیۃ:۵۹)
بعض علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ’’ علماء کا مخصوص لباس بڑی بڑی آستینیں ، چادر اوڑھنا وغیرہ ہونا چاہیے تاکہ لوگ انہیں پہچان سکیں اور علم کی بنا پر ان کی تعظیم کی جائے، یہ اچھاطریقہ ہے۔‘‘
(الحاوی للفتاوی، ص۲۹۷ مخطوط مصور)