Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
332 - 479
 شَعبَانَ بنِ حُسَین یعنی کیا سبز علامت (جو کہ ساداتِ کرام کے لئے مقرر کی گئی ہے) کا پہننا جائز ہے ؟ جواب: اس کی قراٰن و سنّت اور زمانۂ قدیم میں کوئی اصل نہیں ہے (یعنی نبیٔ کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانو تابعینِ عُظَّام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام نے اسے ساداتِ کرام کے لئے مقرر نہیں فرمایا) بلکہ اسے (یعنی سبز علامت کو نہ کہ سبز عمامے کو) بادشاہ الاشرف شعبان بن حسین نے ۷۷۳؁ ھ میں مقرر کیا تھا۔ 
	حضرت سیّدنا امام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : اس پر کئی شعراء نے اشعار بھی کہے جیسے صاحبِ شرح الفیہ علامہ جابر بن عبداللہ اُندلُسی کہتے ہیں : ’’لوگوں نے نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کی اولاد کے لیے علامت مقرر کی ہے، علامت تو اس شخص کے لیے ہوتی ہے جو مشہور نہ ہو ، ان کے چہروں میں نورِ نبوت کی چمک دمک، ساداتِ کرام کو سبز علامت سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ ‘‘(الحاوی للفتاوی ، العجاجۃ الزرنبیۃ الخ، ۲/۴۰) 
سادات کو سبز علامت  پہنانے کا شرعی حکم
	حضرت سیّدنا امام جلال الدین سیوطی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی مزید فرماتے ہیں : لُبسُ ہٰذِہِ العَلَامَۃِ بِدعَۃٌ مُبَاحَۃٌ لَا یُمنَعُ مِنہَا مَن اَرَادَہَا مِنْ شَرِیفٍ وَغَیرِہٖ وَلَا یُؤمَرُ بِہَا مَنْ تَرَکَہَا مِنْ شَرِیفٍ وَغَیرِہٖ یعنی اس سبز علامت کا پہننا بدعتِ مباحہ ہے اگر کوئی سیّد یا غیرِ سیّد اسے پہننا چاہے تو اسے منع نہیں کیا جائے گا