امام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی اور حضرت سیّدنا امام احمد بن حجر مکی شافعی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نے سبز عمامے کو بدعت نہیں فرمایا بلکہ مصر کے بادشاہ الاشرف شعبان بن حسین(1) نے ۷۷۳ ھ میں جو ساداتِ کرام کی عزّت و تکریم کے لیے اُن کے عماموں پر سبز رنگ کے کپڑے کا ایک ٹکڑا علامت کے طور پر لگانے کا اہتمام کیا تھا تاکہ سیّد اور غیر سیّد میں امتیاز ہو جائے(2) اس علامت کو بدعت فرمایا نہ کہ سبز عمامہ کو، جیسا کہ ان حضرات کی عبارات سے ظاہر ہے چنانچہ حضرت سیّدنا امام سیوطی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے کیا گیا سوال اور اس کا جواب بالترتیب یوں ہے: ہَل یَلبَسُونَ العَلاَمَۃَ الخَضْرَاء ؟ والجواب: اَنَّ ہٰذِہِ الْعَلاَمَۃَ لَیسَ لَہَا اَصلٌ فِی الشَّرعِ وَلاَ فِی السُّنَّۃِ وَلاَ کَانَت فِی الزَّمَنِ القَدِیمِ، وَاِنَّمَا حَدَثَتْ فِی سَنَۃِ ثَلاَثٍ وَّسَبعِینَ وَسَبعِ مِائَۃٍ بِاَمرِ المَلِکِ الاَشرَفِ
1…سلطان اشرف ابوالمعالی زین الدین شعبان ثانی مملوک سلطنت مصر کا حکمران تھا۔ ۱۵شعبان ۷۶۴ ھ مطابق 30 مئی 1363 ء میں سلطان منتخب کیا گیا۔ 13 سال حکومت کرنے کے بعد ۷۷۸ھ مطابق 1376 ء میں شہیدکر دیاگیا۔ یہ رحم دل تھا اپنی رعایا سے حسن سلوک کیا کرتا تھا۔ (اردو دائرئہ معارف الاسلامیہ ،۱۱/ ۷۳۶)
2…فاصلہ ان ملک مصر الاشرف شعبان بن حسین امر فی سنۃ ثلاث وسبعین وسبع مائۃ بتقدیم الموحدۃ فیہما بتخصیصہم بعلامۃ خضراء توضع علی عمامۃ احدہم للفرق بین الشریف وغیر الشریف ثم توسع فیہا حتی جعلت العمامۃ کلہا خضراء (الشرف المؤبد، ص۴۴)