میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ صحابۂ کرام اور اولیائے عظام کس طرح مختلف مواقع پر اپنے لئے شِعَار مقرر فرمالیا کرتے تھے ۔ یہ تمام دلائل اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ کسی چیز کو اپنا شِعَار بنانا بالکل جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔ اگر کسی لباس کو شِعَار بنانا ناجائز و بدعت ہوتا تو ہرگز ہرگز علماء و فقراء کو خاص لباس پہننے کی اجازت نہ ہوتی۔ لہٰذا ہمیں اس طرح کے وَساوِس کو خاطر میں لائے بغیر اپنے پیارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی پیاری پیاری سنّتِ عمامہ کو اپنے لباس کا جُزوِ لَا یُنفَک بنا لینا چاہیئے۔
کیا سبز عمامہ بدعت ہے؟
(5)وسوسہ: سنا ہے کہ حضرت امام جلال الدّین سیوطی شافعی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی اور حضرت علامہ احمد بن حجر مکی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نے سبز عمامے کو بدعت (1) قرار دیا ہے۔
جوابِ وسوسہ : میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے جب سبز سبز عمامہ شریف باندھنا ہمارے پیارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم، صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان اور اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلاَم سے ثابت ہے تو بھلا کوئی بھی عالمِ باعمل اسے بدعت کیونکر کہہ سکتا ہے ۔ دراصل حضرت سیّدنا
1…بدعت وہ اِعْتِقَادیا وہ اَعمال جو کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کے زمانۂ حیاتِ ظاہری میں نہ ہوں بعد میں ایجاد ہوئے ۔(جاء الحق، ص۲۲۱)