لیے ہوتے تھے (نیز) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرات مہاجرین افضل ہیں حضرات انصار سے کہ ان کا شِعَار عبداللہ ہوا جس میں رب تعالیٰ کا اسمِ ذات ہے اور انصار کا شعار عبدالرحمن ہے جس میں رب تعالیٰ کا صفاتی نام ہے۔
(مراٰۃ المناجیح، ۵/۵۲۲)
{7}میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تو مخصوص رنگ کا عمامہ باندھتے ہی اس لئے تھے تاکہ ان کی پہچان ہو سکے جیسا کہ حضرت سیّدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جنگِ بدر کے دن زرد رنگ کے عمامے کو اپنی علامت (پہچان) بنایا۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ، عمامۃ، ۳۰/۳۰۳)
علمائے کرام کے لئے خاص وضع قطع کا لباس پہننا مستحب قرار دیا گیا ہے تاکہ لوگ اس لباس کے ذریعے عالم کو پہچان کر اس سے مسائل پوچھیں چنانچہ درمختار میں ہے ’’یَحسُنُ لِلفُقَھَائِ لَفُّ عِمَامَۃٍ طَوِیلَۃٍ وَلُبسُ ثِیَابٍ وَاسِعَۃٍ‘‘ یعنی فقہاء کے لیے اچھا عمل یہ ہے کہ وہ بڑا عمامہ باندھیں اور کھلا لباس پہنیں۔ (الدر المختار و ردالمحتار، کتاب الحظر و الاباحۃ، فصل فی اللبس، ۹/۵۸۶)
حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : ’’فقہا و علماء کو ایسے کپڑے پہننے چاہئے کہ وہ پہچانے جائیں تاکہ لوگوں کو ان سے استفادہ کا موقع ملے اور علم کی وَقعَت لوگوں کے ذہن نشین ہو۔‘‘ (بہار شریعت، ۳/۴۱۵)