{5}سنّت کے قدردان
شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ اپنی مایہ ناز تالیف فیضانِ سُنّت جلد اوّل میں فرماتے ہیں : ’’کیمیائے سعادت‘‘ میں ہے، ایک بزرگ نے ایک بار سنّت کے مطابق سیدھی جوتی سے پہننے کا آغاز کرنے کے بجائے بے خیالی میں الٹی جوتی پہلے پہن لی اس سنت کے رہ جانے پر انہیں سخت صدمہ ہوا اور اس کے عوض انہوں نے گیہوں کی دو بوریاں خیرات کیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ انہیں حضرات کا حصہ تھا۔ کاش! ہمیں بھی اپنے بزرگوں کے طریقوں پر چلنا نصیب ہوجائے۔ (فیضانِ سنّت ، ص ۴۶۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
عمامہ شریف بڑی پیاری سنّت ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی سنّتوں میں سے ایک بہت ہی پیاری اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی محبوب ترین سنّت عمامہ شریف بھی ہے ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم نے ہمیشہ سرِ منّور پر عمامہ شریف سجایا ہے اور اپنے غلاموں کو اس کی ترغیب بھی دلائی ہے۔ جو شخص حضور سیّدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی محبت کا دم بھرنے والا ہو وہ بھلا