شریف اُلجھا کر کچھ آگے بڑھ جاتے پھر واپس ہوتے اور عمامہ شریف چھڑا کر آگے بڑھتے ۔لوگو ں نے پوچھا یہ کیا ؟ ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمکا عمامہ شریف اس بیرمیں اُلجھ گیا تھا اور حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اتنی دور آگے بڑھ گئے تھے اور واپس ہو کر اپنا عمامہ شریف چھڑایا تھا۔
(نورالایمان بزیارۃآثار حبیب الرّحمٰن ،ص۱۵)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی سنّتوں سے کس قدر محبت کیا کرتے اورانہیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی سنّتوں پر عمل کا کیسا جذبہ ہوا کرتا تھا۔ کاش ہم بھی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی پیاری پیاری سنّتوں کو اپنانے والے بن جائیں۔ پانی پئیں تو سنّت کے مطابق ، کھانا کھائیں تو سنّت کے مطابق ، زُلفیں بڑھائیں تو سنّت کے مطابق، عمامہ شریف سجائیں تو سنّت کے مطابق، الغرض ہم سنّتوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیں۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
ہمارے اَسلاف رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام تو پیارے آقا، مدینے والے مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی سنّتوں کے ایسے پابند تھے کہ ان کے نزدیک کسی سنّت کا انجانے میں رہ جانا بھی قابلِ کَفَّارہ تھا چنانچہ