میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کو مدد کے لیے پکارنا جائز نہ ہوتا تو یقیناً حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ و دیگر تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ایسا قطعاً نہ کرتے، حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات ِگرامی تو وہ ہے جن کو دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے سیف اللہ یعنی اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار کے خطاب سے نوازا، جو ایسے اسلامی لشکر کا سردار ہو جس میں جیّد صحابۂ کرام ہوں ، جو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے تربیت یافتہ ہوں یقیناً وہ سردار کسی ناجائز کام کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اسے یقینِ کامل تھا کہ ’’یَامُحَمَّدَاہ‘‘ کا نعرہ لگانا باعثِ رحمت و برکت ہے۔
{6} حضرت سیّدنا سَمُرہ بن جُندُب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : کَانَ شِعَارُ المُھَاجِرِینَ عَبدَ اللہِ ، وَ شِعَارُ الاَنصَارِ عَبدَ الرَّحمٰن یعنی مہاجرین کا شِعَار عبد اللہ اور انصار کا شِعَار عبد الرحمن تھا۔
(ابوداؤد ، کتاب الجہاد، باب فی الرجل ینادی بالشعار، ۳/۴۷، حدیث:۲۵۹۵)
مُفَسِّرِ شہیر حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی اس حدیث ِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’علیحدہ علیحدہ شِعَار الگ الگ جماعتوں کی پہچان کے