یہ جنگِ یمامہ ۱۱ سنِ ہجری میں لڑی گئی۔ (سیرت سید الانبیاء ، ص ۵۷۵، الکامل فی التاریخ، ۲/۲۲۱، تاریخ طبری ، ذکر بقیۃ خبر مسیلمۃ الکذاب، ۲/۲۸۱، البدایۃ و النہایۃ ، مقتل مسیلمۃ الکذاب ، ۵/۳۰)
صحابۂ کرام کا عقیدۂ اِستمداد:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس جنگ میں حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سمیت تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان مشکل گھڑی میں حُسنِ اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد مدینۂ مُنَوَّرَہ سے بہت دور’’ یَامُحَمَّدَاہ‘‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں ، یعنی حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا یہ عقیدہ تھا کہ حضور نبیٔ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد دنیا کے کسی بھی کونے میں تم پر مصیبت آ پڑے تو رسولِ کائنات، فخرِموجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کو پکارو۔ اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت، مجددِ دین و ملت حضرت علامہ مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اسی عقیدے کی ترجمانی کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :
فریاد امتی جو کرے حال زار میں ممکن نہیں کہ خیرِ بشر کو خبر نہ ہو
نہ کیوں کر کہوں یَا حَبِیْبِی اَغِثْنِی اسی نام سے ہر مصیبت ٹلی ہے