آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لشکر کی تعداد چوبیس ہزار تھی اور مُسَیلمَہ کذاب کے پاس اس وقت چالیس ہزار فوج تھی، فریقین بے جگری سے لڑے اور جنگ کا نقشہ کئی بار تبدیل ہوا، کبھی حالات مسلمانوں کے حق میں ہو جاتے اور کبھی مرتدین کے۔ ثُمَّ بَرَزَ خَالِدٌ وَدَعَا اِلَی الْبَرَّاز وَنَادَی بِشِعَارِھِمْ وَکَانَ شِعَارُھُم یَا مُحَمَّدَاہ، فَلَم یَبْرُزْ اِلَیْہِ اَحَدٌ اِلَّا قَتَلَہُ یعنی جب حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یقین ہو گیا کہ بنوحنیفہ قبیلے والے اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک مُسَیلمَہ کو قتل نہ کیا جائے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بذات خود میدان میں تشریف لائے اور مقابلے کے لیے مُسَیلمَہ کے شہسواروں کو طلب کیا اور مسلمانوں کے شِعَار یعنی عادت کے مطابق ’’یَامُحَمَّدَاہ ‘‘ نعرہ لگایا اور اس وقت جنگ میں مسلمانوں کا شِعَار یہ تھا کہ وہ مشکل وقت میں بآواز بلند یہ نعرہ لگایا کرتے تھے یَامُحَمَّدَاہ یعنی یا رسول اللہ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم)! ہماری مدد فرمائیے۔ اسی طرح حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی نعرہ لگایا اور پھر دشمنوں کی طرف سے جو بھی مقابلے پر آیا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کی گردن اڑادی ۔ بالآخر مُسَیلمَہ کے حواریوں کو شکست ہوئی اور وہ سارے بھاگ کھڑے ہوئے۔ مسلمانوں کی ایک جماعت نے ان کا تعاقب کیا بہت سوں کو واصلِ جہنم کیا اور بہت سوں کو گرفتار کر کے قیدی بنالیا نیزکثیر مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔