فَکَانَ شِعَارُنَا: اَمِتْ اَمِتْ یعنی: میں نے نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کے مبارک زمانے میں حضرت سیّدنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ غزوہ میں شرکت کی تو اس جنگ میں ہمارا شِعَار تھا: اَمِت اَمِت یعنی: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ دشمنوں کو ہلاک فرما۔ (سنن الکبرٰی للبیھقی، کتاب قسم الفیء والغنیمۃ، باب ما جاء فی شعار القبائل الخ، ۶/۵۸۷، حدیث:۱۳۰۵۳)
{5}دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’فیضانِ صدیقِ اکبر‘‘کے صفحہ 384 پر ہے: امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیدنا عِکرِمہ بن ابی جہل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مُسَیلمَہ کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا اور پھر حضرت سیدنا شُرَحبِیل بن حسنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوان کی مدد کے لیے بھیجا لیکن ان دونوں کے آگے اس نے ہتھیار نہ ڈالے، کیونکہ حضورِ اکرم ،نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد مُسَیلمَہ کذاب کا کاروبار چمک اٹھا تھااور تقریباً ایک لاکھ سے زائد افراد اس کے گرد جمع ہوگئے تھے، حضرت سیدنا عِکرِمہ بن ابی جہل اور حضرت سیّدنا شُرَحبیل بن حسنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے بھی اس کی خوب جنگ ہوئی جس کے مقابلے میں اس کے کئی لوگ مارے گئے ، اتنے میں ان دونوں صحابہ کی مدد کے لیے حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی آ پہنچے۔