Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
324 - 479
 کے تحت فرماتے ہیں : شِعَار دراصل اس علامت کو کہتے ہیں جسے آدمی کی پہچان کے لیے مقرر کیا جائے ۔ پھر اسے بطورِ مُستَعار استعمال کیا جانے لگا اس قول کے بارے میں کہ جسے بول کر آدمی اپنے دین والوں کو پہچان سکے کہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ (فیض القدیر، حرف الشین، ۴/۲۱۲، تحت الحدیث:۴۸۸۴) 
	{2} حضرت سیّدنا براء بن عازب  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے (ایک جنگ کے موقع پر) ارشاد فرمایا: اِنَّکُم تَلقَونَ العَدُوَّ غَدًا وَ اِنَّ شِعَارَکُم حٰمo لَایُنْصَرُوْن یعنی: بے شک تم کل دشمنوں سے ملوگے تو تمہارا شِعَار (علامت و نشانی ) حٰمo لَایُنْصَرُوْنَ ہے۔ 
(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب السیر، باب الشعار، ۱۸/۱۸۵، حدیث:۳۴۲۶۱) 
	{3}حضرت سیّدنا سَمُرَہ بن جُندُب رَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے مہاجرین کا شِعَار یَا بَنِی عَبدَ الرَّحمٰن، خزرج کا یَا بَنِی عَبدَاللہ، اوس کا شِعَار یَابَنِی عُبَیدَ اللہ اور ہمارے سواروں کا نام ’’خَیلُ اللہ‘‘ مقرر فرمایا۔ ہم ایک دوسرے کو اسی شِعَار سے بلاتے۔ (معجم کبیر، باب السین، سمرۃ بن جندب الفزاری الخ، ۷/۲۶۹، حدیث: ۷۱۵۲) 
	{4} حضرت سیّدنا سَلَمَہ بن اَکوَع رَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں : غَزَوْتُ مَعَ اَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ زَمَنَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،