سنّت و جماعت) کی پہچان ہو جیسے اَ فضلیتِ شیخین(1) کا قائل ہونا، موزوں پر مسح کرنا، بعد ِ جمعہ صلوٰۃ و سلام پڑھنا، میلاد النبی کے جلوس و محافل کا انعقاد اور اس میں شرکت ، وقتِ مولود قیام وغیرہ ۔
{5} شِعارِ مباح
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی چیز مثلاً لباس یا کسی عمل کو دینی یا دنیاوی مصلحت کی وجہ سے اپنا شِعَار و علامت بنا لینا شرعاً مباح ہے، جب کہ وہ نہ تو شریعت کے مخالف ہو اور نہ ہی اسے فرض و واجب قرار دیا جائے۔ اس کی بے شمار مثالیں نہ صرف احادیث و روایات میں موجود ہیں بلکہ ہماری روز مرّہ زندگی میں اس کے نظارے عام ہیں جیسے اسکول یونیفارم، پولیس، فوج، اور ملازمین کا لباس وغیرہ، یہ سلسلہ نیا نہیں ہے بلکہ عباسی خلفاء سیاہ رنگ اور ساداتِ کرام عمامہ میں سبزرنگ کا ٹکڑا یا سبز ریشم کی پٹیاں بطورِ شِعَار لگایا کرتے تھے چنانچہ
حضرت علامہ شہابُ الدین احمد بن حجر مکی شافعی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نے عباسیوں کا شِعَار سیاہ اور دیگر مسلمانوں کا سفید بیان فرمایا ہے ، نیز فرماتے ہیں کہ
1…تمام بشر انبیاء و رُسُل اور رُسُل ملائکہ عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے بعد حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق اور حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو تمام صحابہ و اہلِ بیتِ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے افضل ماننا۔