Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
321 - 479
 لباس سفر میں گرد وغبار وغیرہ کے باعث جلد میلا ہو جاتا ہے اور اس کا دھونا بھی دشوار ہوتا ہے اس وجہ کو خاص طور پر ملحوظ رکھتے تھے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ نیلگون رنگ مصیبت زدہ اور غمزدوں کا شِعَار ہے۔ 
(کشف المحجوب، باب لبس المرقعات، ص۵۰) 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اسی طرح پیوند والے کپڑے پہننا بھی صالحین کا شِعَار اور مُتَّقِین کا طریقہ ہے۔ اگر کوئی ان صالحین کے طریقے کی اِتِّباع کی نیت سے پیوند والے کپڑے پہنے تو مستحب ہے چنانچہ 
پیوند والے کپڑے صالحین کا شِعَار
	حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں :  امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروق  رَضِی اللہُ تَعالٰی عَنْہ نے طواف فرمایا تو آپ رَضِی اللہُ تَعالٰی عَنْہ کے لباس مبارک پر چمڑے کے بارہ پیوند تھے۔ دیگر خلفاء بھی پیوند لگے کپڑے زیبِ تن فرماتے تھے۔ مزید فرماتے ہیں : وَذَلِکَ شِعَارُ الصَّالِحِینَ وَ سُنَّۃُ المُتَّقِینَ حَتّٰی اِتَّخَذَ الصُّوفِیَۃُ شِعَاراً یعنی: یہ صالحین کا شِعَار اور متقین کی سنّت ہے، حتی کہ صوفیاء کرام نے پیوند والے کپڑوں کو اپنا شِعَار بنالیا۔ 
(فیض القدیر، حرف الھمزہ، ۳/۳۶، تحت الحدیث:۲۶۵۶) 
	اسی طرح سے اہلسنّت کے شِعَار  بھی ہیں کہ جن سے سُنِّیت (اہلِ