Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
320 - 479
{4}شعارِ صالحین
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بعض چیزیں بزرگانِ دین کے شِعَار سے ہوتی ہیں جیسا کہ اون کا لباس صوفیاء کا شِعَار ہے۔ چنانچہ حضرت سیّدنا داتا گنج بخش علی بن عثمان ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی مشہور کتاب ’’کَشفُ المَحجُوب‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’مُرَقَّعہ (مُرَق-قَعْہ) یعنی پَشَم اور اُون و صوف کا مخصوص وضع قطع کا لباس جسے گدڑی کہتے ہیں صوفیۂ کرام کا شِعَار ہے۔‘‘ 
(کشف المحجوب، باب لبس المرقعات ، ص ۴۳) 
	حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی  عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں :  ’’صوف یعنی اون کے کپڑے اولیائے کاملین اور بزرگانِ دین نے پہنے اور ان کو صوفی کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ صوف یعنی اون کے کپڑے پہنتے تھے۔ اگرچہ ان کے جسم پر کالی کملی ہوتی مگر دل مخزنِ انوارِالٰہی اور معدنِ اسرارِنامتناہی ہوتا۔‘‘ (بہارِ شریعت، ۳/۴۱۶) 
نیلا رنگ صوفیاء کا شِعار
	نیلے رنگ کا لباس بھی صوفیاء کرام کا شِعَار رہا ہے چنانچہ حضرت داتا گنج بخش  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اکثر سلف صالحین صوفیاء کرام کا لباس اس وجہ سے نیلگون (نیلا) رہتا تھا کہ وہ اکثر سیر و سیاحت فرماتے تھے۔ چونکہ سفید