Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
319 - 479
1…وہ دھاگہ یاڈوری جو ہندو گلے سے بغل کے نیچے تک ڈالتے ہیں جبکہ عیسائی ، مجوسی اور یہودی کمر میں باندھتے ہیں۔
 چیزیں فی نفسہٖ ناجائز ہوں یا کفار و مشرکین یا کسی بدعتی فرقے کی علامت ہوں ان کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ، بلکہ فعلِ حرام اور بعض صورتوں میں کفر ہے۔ 
{3}شِعارِ فُسَّاق و فُجّار
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس سے مراد ایسے اعمال ہیں کہ جو فی نفسہٖ تو جائز تھے مگر فُسَّاق و فُجَّار (بُرے لوگوں ) کی علامت اور شِعَار بن جانے کی وجہ سے ان سے اجتناب ضروری ہے جیسا کہ صاحب فتح القدیر علامہ اِبنِ ہمام عَلَیہِ رَحمَۃُ رَبِّ الاَنَام نے اعتجار(1) کو فُسَّاق کا طریقہ ہونے کی وجہ سے مکروہ قرار دیا۔ 
	اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت ، مجدد دین و ملت شاہ احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن  فرماتے ہیں : (لباس کی شرائط میں سے تیسری شرط یہ ہے کہ) لباس کی وضع کا لحاظ رکھا جائے کہ کافروں کی شکل وصورت اور فاسقوں کے طرزو طریقے پر نہ ہو اور اس کی دو قسمیں ہیں : ایک یہ کہ ان کا مذہبی شِعَار ہو جیسے ہندوؤں کا زنار اور عیسائیوں کی خصوصی ٹوپی کہ ’’ہیٹ‘‘کہتے ہیں۔ پس ان کا استعمال کفر ہے اور اگر ان کے مذہب کا شِعَار تو نہیں لیکن ان کی قوم کا خصوصی لباس ہے تو اس صورت میں بھی اس کا استعمال ممنوع (ناجائز ہے) چنانچہ حدیث صحیح میں فرمایا: جو کسی قوم سے مُشابَہَت اختیار کرے وہ اسی میں شمار ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۲۲/۱۹۰)


1…بغیر ٹوپی کے اس طرح عمامہ باندھنا کہ درمیان سے سر ننگا رہے۔