حاصِل کرناچاہئے جو لوگوں کی مُرَوَّت کی وجہ سے کھانے پینے کی سنّتیں تَرک کر دیا کرتے ہیں ،نیز داڑھی شریف اورعمامہ مبارَکہ کے تاجِ عزّت کوسر پر سجانے سے کترا جاتے ہیں۔ یقینا سنّت پر عمل کرنا دونوں جہاں میں باعثِ سعادت ہے، کبھی کبھی دنیا میں ہاتھوں ہاتھ بھی اس کی بَرَکتیں ظاہِر ہو جاتیں ہیں جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد عَلَیہِ رَحمَۃُ المَاجِد کو شاہی دربار میں سنّت پر عمل کرنے کی بَرَکت سے ایک ہزار دینار مل گئے اور آپ مالدار ہوگئے۔
(فیضانِ سنّت، باب آدابِ طعام، ص ۲۶۳ )
جو اپنے دل کے گلدستے میں سنّت کو سجاتے ہیں
وہ بے شک رَحمتیں دونوں جہاں میں حقّ سے پاتے ہیں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{4}کسی کی ادا کو ادا کررہا ہوں
شارِحِ بخاری ، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مُحَشِّیٔ کُتُبِ درسِ نِظامی حضرت علامہ عبدالحلیم فرنگی مَحَلِّی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی مشہور کتاب’’ نُورُالایمَان بِزِیَارَۃِآثَارِ حَبِیبِ الرَّحمٰن‘‘ کے تعارف میں نقل فرماتے ہیں : حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما مکۃ المکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْمًا جاتے ہوئے ایک جھڑبیریا کی شاخوں میں اپنا عمامہ