Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
318 - 479
 شَدَّت عَلَی وَسطِھَا حَبلاً وَقَالَت ھٰذَا زُنَّارٌ تَکفُرُ کسی عورت نے اپنی کمر میں رسی باندھی اور کہا یہ جنیو (جَ-نِ-یو) (1)ہے کافرہ ہو گئی۔ واللہ تَعَالٰی اَعلَم۔
 (فتاویٰ رضویہ ، ۲۲/۱۹۳) 
	مَوسُوعَۃُ الفِقہِیَّہ میں ہے: ’’صحیح مذہب پر احناف، مالکیہ اور جمہور شافعیہ کا یہ مذہب ہے کہ ایسا لباس جو کفار کا شِعَار ہو اور وہ اُس لباس کے ذریعے مسلمانوں سے ممتاز ہوتے ہوں ایسے لباس میں اُن کی مُشابَہَت اختیارکرنے والے پر ظاہراً یعنی دنیوی احکام میں کفر کا حکم دیا جائے گا۔‘‘ 
(الموسوعۃ الفقیہہ، ۱۲/۵)
	سیدی اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت ، مجدد دین و ملت شاہ احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن  انگرکھے کے متعلق فرماتے ہیں : ’’یہ بھی ایک جدید پیداوار ہے لیکن اس کے باوجود یہ اپنے اندر ممانعتِ شرعی نہیں رکھتا مگر جب کہ اس کے پردے کا چاک دائیں طرف ہو تو پھر ہندؤوں کی مُشابَہَت کی وجہ سے حرام ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ ، ۲۲/۱۹۱) 
	فقہائے کرام کی مذکورہ عبارات سے یہ بات بخوبی معلوم ہوگئی کہ جو