شان و شوکت کا اِظہار ہے، لہٰذا انہیں باقی رکھنا مسلمانوں پر لازم ہے۔
{2} شِعارِ کُفّار
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس قسم میں وہ شِعَار داخل ہیں جو بذاتِ خود غیر شرعی ہوں جیسے قَشقَہ لگانا اور زُنّار پہننا، یا پھر فی نفسہٖ تو جائز ہوں لیکن کُفّارو مشرکین اور بدعتی لوگوں نے انہیں یوں اپنا لیا ہو کہ ان کی علامت بن چکے ہوں جیسے محرم الحرام میں سیاہ لباس پہننا۔ اس طرح کے شِعَار ناجائز ہیں اور بعض صورتوں میں کفر۔
سیّدی اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت، مجدد دین و ملت شاہ احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن ایک سوال (ایسا لباس پہننا جس سے فرق کافر مسلمان کا نہ رہے شرعاً کیا حکم رکھتاہے؟) کے جواب میں فرماتے ہیں : حرام ہے۔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم فرماتے ہیں : مَنْ تَشَبَّہَ بِقَومٍ فَھُوَ مِنْہُم (یعنی) جو کوئی کسی قوم سے مُشابَہَت اختیار کرے وہ ان ہی میں سے ہے۔ (ابوداؤد ، کتاب اللباس ، باب فی لباس الشہرۃ ، ۴/۶۲، حدیث:۴۰۳۱) بلکہ اس میں بہت صورتیں کفر ہیں جیسے زُنَّار باندھنا بلکہ شَرْحُ الدُّرَر لِلْعَلَّامَۃِ عَبْدِالغَنِی النَّابُلُسِی بِن اِسمٰعِیل رَحِمَہُمَا اللہُ تَعَالٰی میں ہے : لُبسُ زِی الاِفرَنجِ کُفرٌ عَلَی الصَّحِیحِ یعنی صحیح مذہب یہ ہے کہ فرنگیوں کی وضع پہننا کفر ہے۔ فتاوی خلاصہ میں ہے : اِمْرَاَۃٌ