Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
316 - 479
{1}شِعَارِ اسلام 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شِعَارِ اسلام سے مراد ہر وہ کام ہے کہ جو دینِ اسلام کی پہچان ہو جیسے نماز، مسجد، اذان ، جمعہ، قربانی، عیدین، داڑھی وغیرہ انہیں ’’شَعَائِرُ اللہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ احادیث و روایات میں مختلف اعمال کو شِعَار قرار دیا گیا ہے جیسا کہ 
	حضرت سیّدنا امام زُہری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: اَلاَذَانُ شِعَارُ الِایمَانِ یعنی اذان  شِعَارِ ایمان (میں سے) ہے۔ (مصنف عبد الرزاق، کتاب الصلوۃ، باب فضل الاذان، ۱/۳۵۹، حدیث:۱۸۶۲) 
	حضرت سیّدنا زید بن خالد جُہَنِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہ وَ سَلَّم کے پاس حضرت سیّدنا جبریلِ امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلاَم حاضر ہوئے اور عرض کی: یارسول اللہ!  آپ اپنے اصحاب کو حکم فرمائیں کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے اپنی آوازوں کو بلند کریں فَاِنَّھَا مِنْ شِعَارِ الحَجِّ یعنی یہ حج کے شِعَار  میں سے ہے۔ (ابن ماجہ، کتاب المناسک،  باب رفع الصوت بالتلبیۃ، ۳/۴۲۳، حدیث:۲۹۲۳) 
چونکہ یہ اسلام کی علامت اور پہچان ہیں اور ان کی اِشاعت و بَقاء میں اسلام کی