کہ دعوتِ اسلامی والوں نے سبز عمامے کو اپنی پہچان بنا لیا ہے۔
جوابِ وسوسہ: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سبز عمامے کو علامت و شِعَار کے طور پر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ، کیونکہ کسی بھی چیز کو بطورِ شِعَار استعمال کرنا اُس وقت منع ہوتا ہے کہ (1) جب اس چیزکا استعمال فِی نَفسِہٖ ناجائز ہو یا (2)وہ چیز کُفّار اور فُسَّاق کی علامت ہو۔ اور سبز عمامہ شریف باندھنے میں یہ دونوں باتیں ہی نہیں پائی جاتی، کیونکہ سبز عمامہ نہ تو فِی نَفسِہٖ ناجائز ہے اور نہ ہی کُفّار وفُسَّاق کی علامت، بلکہ سبز عمامہ باندھنا تو فرشتوں کی نشانی ، صحابہ و تابعین رِضوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہِم اَجمَعِین کا طریقہ اور نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کی سنّت سے ثابت ہے تو بھلا یہ ناجائز کیونکر ہو سکتا ہے۔ کسی بھی چیز کو بطورِ شِعَار استعمال کرنے کے جائز ونا جائز ہونے کی تفصیل یوں ہے:
شِعَار کی اقسام
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رہے عام طور پر شِعَار (علامت) کی پانچ اقسام بیان کی جاتی ہیں :
(1) شِعَارِ اسلام (2) شِعَار ِکفار
(3) شِعَار ِ فُسَّاق و فُجّار (بدکردار لوگوں کا شعار) (4) شِعَارِ صالحین
(5) شِعَارِ مباح