کپڑا عام طور پرسیاہ ،سفید یا اَرغوانی مَخمَل کا ہوتا ہے ‘‘کو بھی طیلسان کہتے ہیں۔
(اردو لغت ، ۱۳/۲۱۴ ملتقطاً)
سیجان کا معنی سبز عمامہ ہرگز نہیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے غور فرمایا کہ لفظ سِیجَان کے اس قدر معانی ہونے کے باوجود کسی ایک نے بھی اس کا معنی سبز عمامہ نہیں کیا بلکہ سب ہی نے اس کاترجمہ مختلف رنگ کی چادروں کا کیا ہے لہٰذا اس سے سبز عمامہ کا ترجمہ کرنا حدیثِ مبارک کا مطلب و معانی بدلناہے اور جان بوجھ کر حدیث کے معانی و مطالب کو بدلنا اپنے آپ کو جہنم کا حقدار بنانا ہے ۔ نیز مذکورہ حدیث میں جن ستر ہزار افراد کا تذکرہ ہے وہ مسلمان نہیں بلکہ ملکِ اصفہان کے یہودی ہوں گے جیسا کہ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے چنانچہ حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِی اللہُ تَعالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ یَتْبَعُ الدَّجَّالَ مِنْ یَہُودِ اَصْبَہَانَ سَبْعُونَ اَ لْفًا عَلَیْہِمْ الطَّیَالِسَۃُ‘‘ یعنی اَصبَہان کے ستر ہزار یہودی دجال کی پیروی کریں گے، جن پر ’’طیالِسہ‘‘ (یعنی سبز چادریں ) ہوں گی۔ (مسلم ، کتاب الفتن و اشراط الساعۃ، باب فی بقیۃمن احادیث الدجال، ص۱۵۷۸، حدیث:۲۹۴۴)
حکیمُ الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان عَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اس