اَلمُعجَمُ الوَسیِط میں ہے: ساج ایک بہت بڑا درخت ہے جو طول و عرض میں پھیلا ہوا ہوتا ہے اور اس کے بڑے بڑے پتے ہوتے ہیں اور سیجان، ساج کی جمع ہے۔ (المعجم الوسیط، الجزء الاول ،ص ۴۶۰)
حضرت علامہ ملا علی قاری علَیْہ رَحْمَۃُ اللہ البَارِی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : سیجان سین کے کسرہ کے ساتھ ساج کی جمع ہے جس سے مراد طیلسان اَخضَر (یعنی سبز چادر) ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب الفتن ، باب العلامات بین یدی الساعۃ الخ، الفصل الثانی، ۹/۴۱۷، تحت الحدیث:۵۴۹۰)
لُغَت کی معتبر کتاب ’’لِسَانُ العَرَب ‘‘میں ہے: اَلسِّیجَانُ الطَیالِسَۃُ السُّودُ یعنی سیاہ چادریں السِّیجَان جَمعُ سَاجٍ وَ ھُوَ الطِّیلَسَانُ الاَخضَر یعنی سِیجَان سَاجٌ کی جمع ہے جس سے مراد سبز طیلسان (چادریں ) ہیں۔
(لسان العرب ، ۱/۱۹۳۰)
عربی لُغَت کی مشہور کتاب ’’اَلمُنجِد ‘‘ میں ’ ’طِیلَسَان‘‘ کے مختلف معانی لکھے ہیں : خاکستری رنگ کا ہونا ۔کالی چادر۔ محوشدہ تحریر ، میلا کپڑا۔ طِیلَس’’ سبز چادر کو کہتے ہیں جسے علماء و مشائخ استعمال کرتے ہیں۔ ‘‘(المنجد، ص ۴۶۹)
اسی طرح ضخیم ترین ’’اُردو لُغت ‘‘میں ہے کہ طیلسان ایک قسم کی چادر ہے جوخطیب اور قاضی کندھوں پر ڈالتے ہیں اور جنازے یا قبر کی چادر ’’جس کا