عالم حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم )کی امت ِدعوت ہے اور مسلمان امت ِاجابت۔ اس صورت میں ایسی حدیث کی شرح وہ گزشتہ حدیث ہے (جو حضرت سیّدنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے) کہ اصفہان کے یہودی دجال کی پیروی کریں گے۔ یہاں امتی سے مراد وہی یہود ہیں کہ وہ حضور کی امتِ دعوت ہیں اور ستر ہزار سے مراد ہزار ہا آدمی ہیں نہ کہ یہ عدد خاص ۔
حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن حدیثِ پاک کے اس حصہ عَلَیھِمُ السِّیجَان (کہ ان پر سیجان ہوں گی) کی شرح میں فرماتے ہیں : یعنی میری امت کے وہ لوگ دَجّال کو مانیں گے (پیروی کریں گے) جو پہلے سے ہی فیشن پرست یہود و نصاریٰ کے نقّال ان کی سی شکل و صورت بنانے والے یہود کا سا نقشین فیشن ایبل لباس پہننے والے ہوں گے انہی کا بیڑا غرق ہو گا۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۷/۳۱۷)
سیجان کے لغوی معنیٰ
{۲}’’سِیجَان‘‘ عربی لفظ ہے جو کہ ’’سَاجٌ‘‘ کی جمع ہے۔ لفظ ِساج کے کتبِ لغت میں درج ذیل معانی مذکور ہیں۔ چنانچہ ابو الفیض مرتضیٰ زُبیدی اپنی مشہورِ زمانہ لُغت ’’تَاجُ العُرُوس‘‘ میں فرماتے ہیں : موٹے کپڑے ، سیاہ رنگ کی چادر، سبز رنگ کی چادر، تارکول والے سیاہ دھاگے سے بنے ہوئے کپڑے، گول چادر اور مجازاً مربع یعنی چورس چادر کو ساج کہا جاتا ہے۔ (تاج العروس، الجزء الاول ، ص ۱۴۳۸)