Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
309 - 479
 گے جن پر ’’سیجان‘‘ ہوں گی۔ ‘‘(مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب الفتن، باب العلامات بین یدی الساعۃ الخ، الفصل الثانی، ۲/۳۰۱، حدیث:۵۴۹۰) 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ روایت میں ’’سِیجَان‘‘ اور ’’مِن اُمَّتِی‘‘کے الفاظ قابلِ غور ہیں 
 	{۱}مذکورہ روایت میں مِن اُمَّتِی سے مراد امتِ اجابت (امتِ مسلمہ) نہیں بلکہ امتِ دعوت ہے، جیسا کہ حضرت علامہ ملا علی قاری علَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی نے مذکور حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اُس روایت ’’کہ جو حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے : اَصفَہان کے یہودی دجال کی پیروی کریں گے‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ امت سے مراد ، امت ِدعوت ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب الفتن ، باب العلامات بین یدی الساعۃ الخ، الفصل الثانی، ۹/۴۱۷، تحت الحدیث:۵۴۹۰ ، اشعۃ المعات، کتاب الفتن ، باب العلامات الساعۃ، الفصل الثانی ، ۴/۳۶۴) 
	حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اِسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :غالب یہ ہے کہ امت سے مراد امتِ دعوت ہے جن پر فرض ہے کہ حضورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم) پر ایمان لائیں سارا