بغداد مامون رشید نے اپنے ہاں مَدعُو کیا، طَعام کے آخِر میں کھانے کے جو دانے وغیرہ گر گئے تھے، مُحَدِّثِ موصوف چُن چُن کر تناوُل فرمانے لگے ۔ مامون نے حیران ہو کر کہا، اے شیخ! کیا آپ کا ابھی تک پیٹ نہیں بھرا؟ فرمایا: کیوں نہیں ! دراصل بات یہ ہے کہ مجھ سے حضرتِ سیِّدُناحَمّاد بن سَلَمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک حدیث بیان فرمائی ہے: ’’جو شخص دسترخوان کے نیچے گِرے ہوئے ٹکڑوں کو چُن چُن کر کھائے گاوہ تنگدستی سے بے خوف ہو جائے گا۔‘‘ میں اِسی حدیثِ مبارَک پر عمل کر رہا ہوں۔ یہ سُن کر مامون بے حد مُتَأَثِّر ہوا اور اپنے ایک خادِم کی طرف اِشارہ کیا تو وہ ایک ہزار دینار رومال میں باندھ کر لایا۔ مامون نے اس کوحضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد عَلَیہِ رَحمَۃُ المَاجِد کی خدمت میں بطورِ نذرانہ پیش کر دیا۔ حضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد عَلَیہِ رَحمَۃُ المَاجِد نے فرمایا: اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ حدیثِ مبارَکہ پر عمل کی ہاتھوں ہاتھ بَرَکت ظاہِر ہو گئی۔
(ثمرات الاوراق، ۱/۸)
شرما کر سنّتیں مت چھوڑئیے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا ہمارے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی سنّتوں پر عمل کے معاملے میں دُنیا کے بڑے سے بڑے رئیس بلکہ بادشاہ کی بھی پرواہ نہیں کرتے ۔ اِس حِکایت سے ہمارے اُن اسلامی بھائیوں کو درس