سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے فرمایا :’’ جب تک تمہیں یقینی علم نہ ہو میری طرف سے حدیث بیان کرنے سے بچو، جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹ منسوب کیا اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔‘‘ (ترمذی، کتاب تفسیر القراٰن عن رسول اللہ ، باب ماجاء فی الذی یفسر القراٰن برایہ ، ۴/۴۳۹، حدیث:۲۹۶۰)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے حدیث کے معاملے میں جھوٹ بولنے والے کے لیے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے کیسی سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں۔
سیجان والی حدیث کی وضاحت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اب اس اصل حدیثِ مبارک کو ملاحظہ فرمائیے کہ جس کا غلط ترجمہ کر کے سبزسبز عمامے والے عاشقانِ رسول کے متعلق یہ رائے قائم کی گئی ہے کہ معاذ اللہ یہ لوگ دجال کے پیروکار ہیں۔ چنانچہ حضرت سیّدنا ابو سعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں : رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :’’یَتْبَعُ الدَّجَالَ مِن اُمَّتِی سَبْعُونَ اَ لْفًا عَلَیْہِمُ السِّیجَانُ (1) یعنی میری امت کے ستر ہزارافراد دجال کی پیروی کریں
1 ….اس روایت کی سند پر سخت کلام ہے۔