Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
307 - 479
 سنتوں پر عمل کریں اگر کوئی مسلمان نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی سنتوں پر عمل کرنے لگتا ہے تو وہ طرح طرح کے ہتھکنڈوں کے ذریعے انہیں روکنے کی کوشش کرتاہے ،ان کے ذہنوں میں وسوسے ڈالتا ہے تاکہ لوگ اس کی جھوٹی باتوں میں آ کر سنّتیں اپنانا چھوڑ دیں چنانچہ اسی وسوسے کو ہی لے لیجئے حالانکہ ایسی کوئی حدیث نہیں ہے کہ جس میں نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے یہ فرمایا ہو کہ سبز عمامے والے دجال کے پیرو کار ہوں گے۔ اب جس کسی نے یہ کہا کہ ’’حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے فرمایا میری امت کے ستر ہزار آدمی دجال کی پیروی کریں گے اور وہ سبز عمامے والے ہوں گے‘‘ اس نے نہ صرف ایک جھوٹ بولا جو کہ بذاتِ خود گناہ ہے بلکہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم پر افتراء (جھوٹ باندھنے) کی انتہائی سخت جرأت بھی کی ہے۔ حدیث شریف میں ایسے شخص کے لئے فرمایا گیا کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے چنانچہ 
نبی عَلَیْہِ السَّلام پر جھوٹ باندھنے والا جہنمی 
	حضرت سیّدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّاْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّار‘‘ یعنی جو جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔ 
 (بخاری، کتاب العلم ، باب اثم من کذب علی النبی الخ، ۱/۵۷، حدیث:۱۱۰) 
	اسی طرح ایک اور روایت حضرت سیدنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا