Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
305 - 479
اسی طرح اب سرخ لباس والے کو دیکھ کر خارجی نہیں کہا جاتا کہ فی زمانہ کوئی خارجی ہمارے یہاں سرخ لباس میں نظر نہیں آتا۔ لہٰذا محرم الحرام میں اب نہ سبز لباس مَمنوع نہ ہی سرخ کی مُمانَعَت۔ پس ثابت ہوا کہ محرام الحرام میں بھی سبز عمامہ شریف بِلاکراہت جائز ہے ۔ 

سبز عمامہ کو ناجائز کہنا جرأت ہے
	امید ہے کہ مشابَہَت کی تعریف سمجھ میں آگئی ہوگی اور آپ بالکل اچھی طرح سمجھ گئے ہونگے کہ وہ بد مذہب لوگ جو کبھی سبز عمامے باندھا کرتے تھے اب کسی طرح بھی دیکھے نہیں جارہے ، ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے، پھر بھی کھینچ تان کر سبز سبز گنبد والے، میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہ وَسَلَّم کے پیارے پیارے سبز عمامے کو کسی گمراہ فرقے کے کھاتہ میں ڈال کر سبز سبز عمامہ شریف پہننے والے عاشقانِ رسول کو ناجائز فعل کا مرتکب جاننا بہت بڑی جرأت ہے ۔ 
	حضرت علّامہ ملّا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ ِالْبَارِی ’’مِرقَاۃ شَرح مِشکوٰۃ‘‘ میں قولِ صحابی نقل فرماتے ہیں :’’مَا رََاٰہُ الْمُسْلِمُوْنَ حَسَنًا فَہُوَ عِنْدَ اللہِ حَسَنٌ یعنی جس کام کو مسلمان اچھا سمجھ کر کریں (جبکہ وہ شریعت میں منع نہ ہو) تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک بھی اچھا ہے‘‘۔ (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلٰوۃ ، باب