لُزُومی‘‘ یعنی بلاارادہ کی مُشابَہَت بھی اگرچہ منع ہے مگر وہ تو حدیث مذکورہ کے تحت آتی ہی نہیں جیسا کہ فتاویٰ رضویہ شریف سے گزرا اور اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہم تو مُشابَہَتِ لُزُومی کی زَد سے بھی بچے ہوئے ہیں کہ فی زمانہ یہ فرقۂ باطِلہ تقریباً مَعدُوم ہو چکا ہے۔ اگر بالفرض کسی زمانے میں ان کا شِعارِ خاص سبز عمامہ رہا بھی ہو تو اب کہاں ؟ کہ اب تو خوردبین لیکر ڈھونڈنے نکلو جب بھی یہ فرقہ نظر نہیں آتا، یا ملے بھی تو اس کا اِکا دُکا آدمی ہی ملے ،تو کوئی ایسا فرقہ جو اپنے کیفر ِکردار کو پہنچ چکا ہو ، اس کا مردہ بھی سڑ چکا ہو، اس کی شہرت بھی بالکل نہ رہی ہو، لوگ اس کے نام تک کو بھول چکے ہوں۔ ان کی کسی نشانی کو خواہ مخواہ مسلمانوں پر مُسَلَّط کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ کیوں کہ مشابَہَت کا تعلق تو زَمان و مکان کیساتھ خاص ہے جیسا کہ ابھی ابھی فتاویٰ رضویہ شریف کے حوالے سے گزرا۔ نیز ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ میں ہے: وَکَمْ مِنْ شَیئٍ یَخْتَلِفُ بَاِخْتِلاَفِ الزَّمَانِ وَالْمَکَان یعنی اور بہت سی چیزیں زمان و مکان کے بدلنے سے بدل جاتی ہیں۔
(فتاوٰی ہندیہ ، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس فی آداب المسجد الخ، ۵/۳۲۳)
دَور بدلنے سے مُشابَہَت بھی بدل جاتی ہے
بہر حال مذکورہ بالا بحث سے یہ بات اَظْہَر مِنَ الشَّمْس ہوئی کہ زمان