Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
301 - 479
 عمامہ اس بدمذہب فرقے کی مُشابَہَت ہے۔ جب داڑھی اور مطلقاً عمامہ مُشابَہَت نہیں تو ہمارا سبز عمامہ بھی کسی گمراہ فرقے کی مُشابَہَت نہیں ) ورنہ لُزُوم کا کیا محل؟ 
(فتاویٰ رضویہ ،۲۴/۵۳۰ ملخصًا) 
فتویٰ شریف کا خلاصہ 
 	میرے آقائے نعمت،  امامِ اہلسنّت عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ جو کوئی کسی قوم کو مَحبوب جان کر اس کا شِعار اس نیت سے اپنائے کہ میں بھی ان جیسا نظر آؤں تو اس صورت میں اگر وہ کسی گمراہ قوم کا شِعَار اپناتا ہے تو اس کا یہ فعل گمراہی ہے اور اگر کفار کا شِعار اپناتا ہے توا سکا یہ فعْل معاذ اللہ’’ کفر‘‘ ہے اور حدیثِ مبارک’ ’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ‘‘ ان دو قسم کی مُشابَہَتوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ 
ہمیں بدمذ ہبوں سے نفرت ہے
	اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی اِحْسَانِہٖ ہم اہلسنّت و جماعت ہیں اور ہم ہرباطل فرقے سے دور نُفور ہیں۔ اگر بالفرض کوئی گمراہ فرقہ سبز عمامہ کو اپنی پہچان بنائے ہوئے بھی ہوجب بھی ہماری نیت ان سے مُشابَہَت کی ہر گز نہیں۔ تو ہم اس فعل میں اس حدیثِ پاک جو اوپر مذکور ہوئی کے تحت مجرم نہیں ہیں اور ’’مُشابَہَتِ