التزامی:یہ کہ یہ شخص کسی قوم کے طرز و وضع خاص اسی قصد(یعنی ارادے) سے اختیار کرے کہ ان کی سی صورت بنائے، ان سے مُشابَہَت حاصل کرے حقیقتاً تَشَبُّہ اسی کا نام ہے ۔
لُزُومی: یہ کہ اس کا قصد (یعنی ارادہ )تو مُشابَہَت کا نہیں مگر وہ وضع اس قوم کا شعارِ خاص (یعنی پہچان) ہو رہی ہے کہ خواہی نہ خواہی (یعنی خود چاہے یا نہ چاہے) مُشابَہَت پیدا ہوگی‘‘۔ مزید فرماتے ہیں : ’’یہ کہ اس قوم کو محبوب جان کر ان سے (جان بوجھ کر) مُشابَہَت پسند کرے یہ بات اگر مُبْتَدِع (یعنی بُری بدعت پر عمل کرنے) کے ساتھ ہو(تو) بدعت (ہے) اور کفار کے ساتھ (ہو تو) معاذ اللہ ’’کفر‘‘۔
حدیثِ پاک ’ ’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُم‘‘ یعنی ’’جو جس قوم کی مُشابَہَت کرے وہ انہیں میں سے ہے۔‘‘ حقیقۃً صرف اسی صورت سے خاص ہے۔ آگے چل کر مُشابَہَت کے بارے میں فرماتے ہیں : ’’اُس زمان و مکان میں ان کا شعارِ خاص (پہچان) ہونا قطعاً ضرور جس سے وہ پہچانے جاتے ہوں اور اُن میں اور اُن کے غیر میں مُشْتَرَک نہ ہو (یعنی وہ پہچان ایک ہی وقت میں دو قوموں میں نہ پائی جاتی ہو جیسا کہ مسلمان کا شِعَار خاص داڑھی اور عمامہ شریف ہے اورایک غیر مسلم فرقے کے لوگ بھی داڑھی اور پگڑی کا اہتمام کرتے ہیں۔ تو اب یہ کہنا ہر گز رَوا نہ ہوگا کہ داڑھی اور