Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
299 - 479
سبز عمامے کے متعلق وسوسوں کا علاج 
(1)وسوسہ: سنا ہے سبز عمامہ ایک گمراہ فرقے کا شِعَار ہونے کے سبب ناجائز ہے اور اس کے ناجائز ہونے کی دلیل یہ حدیثِ مبارک ہے: مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ یعنی جو کسی قوم کی مُشابَہَت اِختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے۔
 (ابوداؤد ، کتاب اللباس ، باب فی لباس الشہرۃ ، ۴/۶۲، حدیث:۴۰۳۱) 
	جوابِ وسوسہ:شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے ایک مکتوب میں اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں جس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے : 
مُشَابَہَت کی تعریف 
 	سبز عمامہ کو کسی گمراہ فرقے کی مُشابَہَت کی وجہ سے  ناجائز قرار دینا درست نہیں ہے ۔ میں آپ کی خدمت میں مُشابَہَت کی تعریف پیش کرتاہوں۔ اگر یہ سمجھ میں آگئی تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اعتراض کی جڑ کٹ جائیگی۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن مُشابَہَت کی تعریف پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں : 
مشابہت کی تعریف:تَشَبُّہ دو وجہ پر ہے {۱}التزامی {۲}لُزُومی