سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ فَاَنَا اُحِبُّ الْقَرْعَ لِحُبِّ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِیَّاہ یعنی میں کدّو شریف کو صرف اس لیے پسند کرتا ہوں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم نے اسے پسند فرمایا ہے۔
(اخلاق النبی ، ذکر اکلہ للقرع ومحبتہ لہ صلی اللہ علیہ وسلم، ص ۱۲۵، حدیث:۶۳۱)
ترمذی شریف میں یہ الفاظ بھی ہیں حضرت سیّدنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کدّو شریف تناول فرماتے ہوئے فرما رہے تھے یَا لَکِ شَجَرَۃً مَا اُحِبُّکِ اِلاَّ لِحُبِّ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ اِیَّاکِ یعنی میرا تیرے ساتھ کیا تعلق ؟ میں تجھے صرف اس لئے محبوب رکھتا ہوں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم بھی تجھ سے محبت فرماتے ہیں۔ (ترمذی ، کتاب الاطعمۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، باب ما جاء فی اکل الدباء ، ۳/۳۳۶، حدیث:۱۸۵۶)
کاش ہمیں بھی سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی سنّتوں سے ایسی محبت ہو جائے کہ ہم بھی کہیں ’’ہمیں داڑھی، عمامے اور زلفوں سے اس لئے محبت ہے کہ یہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی پسند اور سنّت ہیں۔‘‘
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{3}سنّت میں عظمت ہے
زبردست مُحَدِّث حضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد عَلَیہِ رَحمَۃُ المَاجِد کو خلیفہ